Climate Urdu Initiative
www.climateurdu.com

تحقیقی و تجزیاتی مضمون — ماحولیاتی گورننس

ماحولیاتی شعبے میں ایک ایسا نیٹ ورک، جس کا سب سے بڑا کاروبار آلودگی نہیں، اختیارات ہیں

جب ادارے، وکیل، سول سوسائٹی اور میڈیا ایک ہی سمت میں حرکت کرنے لگیں تو سوال یہ نہیں رہتا کہ کوئی غلط کام ہو رہا ہے۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ آیا یہ اتفاق ہے یا ایک نظام۔

پاکستان میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے ہم عموماً صنعتوں، فیکٹریوں، غیر قانونی تعمیرات اور کچرے کو مسئلے کی جڑ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک اور سوال بھی پوچھا جانا چاہیے: اگر ماحولیاتی نظام کے محافظ ہی اپنے اختیارات، اثرورسوخ اور قانونی کارروائیوں کو ایک دوسرے کے مفاد کے لیے استعمال کرنے لگیں تو کیا ہوگا؟

یہ کسی ایک ادارے، ایک وکیل، ایک صحافی یا ایک سول سوسائٹی تنظیم پر الزام نہیں۔ یہ ایک ممکنہ نظامی منظرنامہ ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔ اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔


کہانی کے کردار

١

ماحولیاتی ادارہ

فرض کریں ایک Environmental Protection Agency، یعنی EPA کے پاس ماحولیاتی قوانین نافذ کرنے کے اختیارات ہیں۔ وہ صنعتوں، فیکٹریوں، اسپتالوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والوں کو Show-Cause Notice یا Environmental Protection Order جاری کر سکتی ہے۔ جس ادارے کو نوٹس ملتا ہے وہ گھبرا کر پوچھتا ہے: اس نوٹس سے کیسے بچا جائے؟ یہاں سے ایک دوسرا دروازہ کھلتا ہے۔

٢

پسندیدہ وکیل

فرض کریں ایک ایسا وکیل موجود ہے جس کے پاس ماحولیاتی ادارے کی کارروائی کا سامنا کرنے والے لوگ مسلسل پہنچتے ہیں۔ وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں اور وکیل ان مقدمات سے اچھی خاصی فیس حاصل کرتا ہے۔ یہاں تک سب کچھ قانونی بھی ہو سکتا ہے۔ اصل سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی وکیل کسی خاص ادارے کے اندر موجود عناصر کے ساتھ غیر معمولی مفاداتی تعلق قائم کر لے، اور ایک چکر بن جائے: نوٹس جاری ہو، متاثرہ فریق وکیل کے پاس جائے، وکیل فیس حاصل کرے۔

کیا قانون کا نفاذ کاروباری ماڈل بن سکتا ہے؟

٣

سول سوسائٹی

فرض کریں وہی پسندیدہ وکیل کسی ایسے سول سوسائٹی کارکن یا ماحولیاتی ایکٹوسٹ سے رابطہ کرتا ہے جس کے مقدمات وہ پہلے کم فیس یا مفت میں لڑتا رہا ہو۔ اس کارکن کے لیے یہ ایک موقع بن سکتا ہے: ماحولیاتی شناخت مضبوط ہوتی ہے، میڈیا میں نام آتا ہے، عدالت میں مقدمہ دائر ہوتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف عدالت جائیں جس نے EPA کے اختیارات کم کیے ہیں، اور مقدمہ دائر ہو جاتا ہے۔

٤

میڈیا

اگر کچھ صحافی بھی اس نیٹ ورک کے ساتھ غیر رسمی طور پر جڑ جائیں تو کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔ خبر بنتی ہے: اختیارات کم کر دیے گئے، ماحولیاتی تحفظ خطرے میں، سول سوسائٹی کا شدید احتجاج، ماہرین کی تشویش۔ خبر درست بھی ہو سکتی ہے، تشویش حقیقی بھی ہو سکتی ہے، اختیارات کی منتقلی واقعی نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال باقی رہتا ہے۔

کیا ہر احتجاج صرف عوامی مفاد کے لیے ہوتا ہے؟

یا کبھی کبھی اس کے پیچھے اداروں، افراد، وکیلوں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے باہمی مفادات بھی کام کر رہے ہوتے ہیں؟


اور آخر میں آتا ہے اصل کردار: پیسہ

سوچیے۔ ایک آلودگی پھیلانے والا شخص EPA کے نوٹس سے بچنے کے لیے وکیل کے پاس جاتا ہے۔ اس سے وکیل بھاری فیس لیتا ہے۔ اسی آمدنی کے مقابلے میں وکیل سول سوسائٹی کے کسی کارکن کا مقدمہ کم فیس یا مفت میں لڑتا ہے۔ سول سوسائٹی کارکن کو شہرت ملتی ہے۔ وکیل کو ماحولیاتی مقدمات کے ماہر ہونے کی شہرت ملتی ہے۔ ادارے کے اندر موجود مفاد رکھنے والے عناصر کو اپنے اختیارات واپس حاصل کرنے کی امید ملتی ہے۔ صحافی کو خبریں ملتی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر: ایک ایسا نیٹ ورک وجود میں آ سکتا ہے جس میں ہر شخص دوسرے کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کر رہا ہو۔ کسی کے لیے پیسہ، کسی کے لیے شہرت، کسی کے لیے اثرورسوخ، کسی کے لیے مقدمات، کسی کے لیے میڈیا کوریج اور کسی کے لیے اختیارات۔

the cycle, in one line

اختیار← نوٹس← متاثرہ فریق← وکیل← فیس← سول سوسائٹی← مقدمہ← میڈیا← دباؤ← اختیار کا تحفظ

یہ ایک ممکنہ ماحولیاتی مفاداتی چکر ہے۔ اور اگر کہیں یہ چکر حقیقت میں موجود ہو تو سب سے زیادہ نقصان کس کا ہے؟ عوام کا۔ کیونکہ ماحول کا تحفظ مقصد نہیں رہتا، ماحولیاتی قانون خود ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔


سب سے خطرناک بات کیا ہے؟

خطرناک بات یہ نہیں کہ کوئی وکیل مقدمہ لڑ رہا ہے، نہ یہ کہ سول سوسائٹی عدالت جا رہی ہے، نہ یہ کہ صحافی خبر دے رہا ہے۔ یہ سب جمہوری اور قانونی نظام کا حصہ ہیں۔ خطرناک بات تب ہے جب وکیل کی فیس، سول سوسائٹی کی شہرت، صحافی کی خبر، ادارے کے اختیارات اور آلودگی پھیلانے والے کی قانونی مشکل ایک دوسرے سے اس طرح جڑ جائیں کہ ہر فریق دوسرے کے مفاد کو مضبوط کرنے لگے۔

تب سوال صرف کرپشن کا نہیں رہتا۔ تب سوال یہ ہوتا ہے: کیا پورا ماحولیاتی نظام ہی مفادات کا ایک بند دائرہ بن چکا ہے؟

موسمیاتی تبدیلی کے دور میں یہ سوال اور بھی اہم ہے

پاکستان موسمیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ سیلاب، ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی، کچرے کا بحران، جنگلات کی کمی اور ماحولیاتی انحطاط ایسے مسائل ہیں جن کے لیے مضبوط ادارے، شفاف قانون، آزاد نگرانی اور جواب دہی ضروری ہے۔ ایسے میں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ EPA کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔ یہ بھی پوچھنا چاہیے:

ان اختیارات سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟

اختیارات کم ہونے سے نقصان کس کو ہوتا ہے؟

مقدمہ کون دائر کرتا ہے؟ وکیل کون ہے؟ فیس کون دیتا ہے؟

میڈیا کوریج کس کو ملتی ہے؟

اور آخرکار، اس پورے عمل میں عوام اور ماحول کو کیا حاصل ہوتا ہے؟


شاید ہمیں مافیا کو نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

مافیا ہمیشہ چار لوگ ایک میز پر بیٹھ کر معاہدہ نہیں کرتے۔ کبھی مافیا مفادات کا ایسا غیر رسمی نیٹ ورک ہوتا ہے جس میں ہر شخص دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے، مگر بظاہر سب اپنے اپنے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک قانون نافذ کرتا ہے، دوسرا مقدمہ لڑتا ہے، تیسرا احتجاج کرتا ہے، چوتھا خبر لگاتا ہے، پانچواں فیصلہ کرتا ہے اور چھٹا پیسہ کماتا ہے۔ بظاہر سب الگ الگ۔ لیکن اگر مفادات ایک ہی سمت میں جا رہے ہوں تو سوال ضرور اٹھتا ہے۔

یہ اتفاق ہے یا ایک نظام؟

پاکستان کے ماحولیاتی شعبے کو اس سوال سے بھاگنے کے بجائے اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ کیونکہ ماحولیات کسی ادارے، وکیل، افسر، سیاست دان، سول سوسائٹی یا صحافی کی جاگیر نہیں۔ ماحول عوام کا حق ہے۔

اور ماحولیاتی قانون کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے: آلودگی پھیلانے والے کو روکنا، نہ کہ کسی کے لیے آمدنی کا ذریعہ بننا۔ اختیار عوامی مفاد کے لیے ہونا چاہیے، ذاتی مفاد کے لیے نہیں۔ اور عدالت، میڈیا اور سول سوسائٹی کا استعمال ماحول کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے، مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں۔

اب سوال آپ سے ہے۔ اگر آپ کو کسی ماحولیاتی ادارے، وکیل، سول سوسائٹی اور میڈیا کے درمیان ایسا مفاداتی چکر نظر آئے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟

ماحولیاتی تحفظ؟
ادارہ جاتی سیاست؟
مفادات کا ٹکراؤ؟
یا ایک ممکنہ گرین مافیا؟
#EnvironmentalGovernance #ClimateJustice #Pakistan #EnvironmentalProtection #ClimateChange #GreenGovernance #EPA #EnvironmentalLaw #CivilSociety #Accountability